جمعہ 4 ستمبر 2026 - 19:40
اقتصادی محاصرہ، دشمن کی اپنی شکست کا باعث بنے گا، امام جمعہ تہران

حوزہ/ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ اقتصادی دباؤ اور معاشی محاصرہ عوام اور نظام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے اور حق کے محاذ کو کمزور کرنے کے مقصد سے جاری رکھا جا رہا ہے، لیکن صدرِ اسلام کے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسی پالیسیاں بالآخر دشمنوں کی شکست کا باعث بنیں گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید احمد خاتمی نے آج تہران کی نمازِ جمعہ کے خطبوں میں امریکی نام نہاد اقتصادی دباؤ کے حوالے سے کہا کہ اقتصادی دباؤ اور معاشی محاصرہ عوام اور نظام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے اور حق کے محاذ کو کمزور کرنے کے مقصد سے جاری رکھا جا رہا ہے، لیکن صدرِ اسلام کے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسی پالیسیاں بالآخر دشمنوں کی شکست کا باعث بنیں گی۔

امام جمعہ تہران نے اقتصادی دباؤ اور اس میدان میں رسولِ اسلامؐ کی سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی دباؤ اور معاشی محاصرہ کوئی نئی چیز نہیں ہے جسے ٹرمپ نے، بقولِ خود، ایجاد کیا ہو؛ یہ مسئلہ اسلام کے آغاز ہی سے موجود رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سورۂ انفال کی آیت ۳۶ میں ان لوگوں کے بارے میں جو دین کا مقابلہ کرنے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں، بیان ہوا ہے کہ آخرکار وہ اپنے خرچ کیے ہوئے مال پر پشیمان ہوں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ان کی کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ چنانچہ وہ ناکام اور شکست خوردہ ہوں گے اور آخرت میں بھی برے انجام سے دوچار ہوں گے۔

آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ منافقین کے بارے میں بھی سورۂ منافقون کی آیت ۷ میں آیا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ جو لوگ رسولِ خدا کے پاس ہیں، ان پر خرچ نہ کرو، تاکہ وہ رسولِ اکرمؐ کے گرد سے منتشر ہو جائیں۔ قرآن کریم ہر دور کے لیے زندہ کتاب ہے اور امریکہ کا موجودہ معاشی محاصرہ بالکل انہی مقاصد کے حصول کے لیے ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جس طرح صدرِ اسلام کے دشمن شکست سے دوچار ہوئے، اسی طرح یہ لوگ بھی یقینی طور پر شکست کھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی دباؤ اور معاشی محاصرہ عوام اور نظام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے اور حق کے محاذ کو کمزور کرنے کے مقصد سے جاری رکھا جا رہا ہے، لیکن صدرِ اسلام کے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ایسی پالیسیاں بالآخر دشمنوں کی شکست کا باعث بنتی ہیں۔

امام جمعہ تہران نے کہا کہ رسولِ اکرمؐ نے اقتصادی دباؤ کا مقابلہ دو بنیادی اصولوں کے ذریعے کیا اور اس دباؤ کو عبور کر لیا، جس کا آپؐ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ یہ دونوں اصول آج بھی ہماری ضرورت ہیں۔ پہلا اصول مال کے ذریعے جہاد ہے۔ جہاد یعنی کوشش؛ ایسی کوشش جس میں مشکلات اور سختیاں بھی شامل ہوں۔ یہ جہاد کبھی فوجی میدان میں ہوتا ہے، کبھی اقتصادی میدان میں "اقتصادِ مقاومتی" یعنی مزاحمتی معیشت کے عنوان سے اور کبھی تبیین کے میدان میں "جہادِ تبیین" کے عنوان سے انجام پاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ہماری جنگ بالکل ایک مرکب جنگ ہے۔ اس میں فوجی جنگ بھی شامل ہے اور یہ فوجی جنگ اب بھی بزدلانہ اور انتہائی غیر انسانی طرز سے لڑی جا رہی ہے۔ جنگ کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں، لیکن یہ ٹرمپ کسی اصول کا پابند نہیں ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ۱۶۸ اسکول کے بچوں کا کیا قصور تھا؟ دنیا کے تمام قوانین کے تحت بچے محفوظ ہوتے ہیں، لیکن دشمن لوگوں کی شادیوں کو ماتم میں بدل دیتا ہے؛ لہٰذا سب پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ ایک بزدلانہ جنگ ہے؛ البتہ ہماری مسلح افواج اس غیر انسانی اور بزدلانہ جنگ کا انتہائی اعلیٰ اور مردانہ انداز میں جواب دے رہی ہیں۔

امام جمعہ تہران نے کہا کہ فوجی جنگ موجود ہے اور ہماری مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں۔ دشمن ایک حملہ کرتا ہے تو اسے کئی جوابات ملتے ہیں اور اسے جواب دیا جاتا ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوجی جنگ کے ساتھ ساتھ اقتصادی جنگ بھی جاری ہے۔ دشمنوں نے یہ جنگ، جنگ کے آغاز ہی سے نہیں، بلکہ انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی شروع کر رکھی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف میڈیا کی جنگ اور جھوٹ پھیلانے کی مہم بھی جاری رہی ہے، جبکہ نظام کے خلاف ثقافتی جنگ بھی موجود ہے۔ اقتصادی جنگ بھی اسی محاذ کا ایک حصہ ہے۔ ہمیں بھی رسولِ اکرمؐ کے اصول کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha